Staso nabaz wa........... Option c yani ج روزہ سب سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر فرض نہیں ہوا، بلکہ پہلے نبیوں کی امتوں پر بھی روزے فرض کیے گئے تھے۔ قرآن مجید میں سورۃ البقرہ کی آیت 183 میں فرمایا گیا ہے: > "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض کیے گئے تھے۔ لیکن اسلامی شریعت میں روزہ بطور فرض عبادت سب سے مکمل صورت میں حضرت محمد ﷺ کی امت پر 2 ہجری میں رمضان کے مہینے میں فرض ہوا۔ خلاصہ: روزے حضرت محمد ﷺ کی امت پر 2 ہجری میں فرض ہوئے۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر نبیوں کی امتوں پر بھی روزے کسی نہ کسی صورت میں فرض تھے۔

A
by at 2024-03-25 12:31:54